گلگت بلتستان کی اُبھرتی ہوئی خاتون قیادت شیرین اختر

ویمن اینڈ جنڈر سٹیڈیز میں ماسٹرز کی ڈگری اورمتعدد غیر سرکراری اورنجی اداروں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے بعد محترمہ شیرین اختر نے گلگت بلتستان کے مسائل میں خصوصی دلچسپی لینا شروع کیا، علاقہ گلگت بلتستان کے مسائل بالخصوص خواتین کے مسائل کے حل کی دلچسپی نے انکو سیاست سے وابستہ کیا۔ خود شیرین اختر سیساست کو عبادت سمجھتی ہیں اور کہتی ہیں کہ سیاست کے میدان میں جہاں قدم قدم پر چیلنجز کا سامنا ہے وہیں معاشرتی مسائل کے حل کے وسیع مواقعمیسر آتے ہیں۔

 

18664713_104067320181917_2402659363305870639_n

پاکستان مسلم لیگ ن شعبہ خواتین کو 2010 میں ایک عام سیاسی کارکن کی حیثیت سے جوائن کیا اور انکی سیاسی بصیرت اورپارٹی کے لئے خدمات کو مد نظر رکھتےہوئے، مسلم ن شعبہ خواتین گلگت بلتستان، اسلام آباد کی جنرل سیکٹری منتخب ہوئی۔ بحییثیت جنرل سیکٹری شعبہ خواتین انہوں نے راولپنڈی اسلام اور اپنے آبائی علاقہ بلتستان میں خواتین میں سیاسی شعور بیدار  کرنے اورپارٹی کو مظبوط کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

17389095_1658693267764998_2758159575426120905_o

پارٹی کے لئے بہترین خدمات اور خواتین کے مسائل میں خصوصی دلچسپی کی بنا پر شیرین اختر کو نہ صرف ضلعی سطح پر بلکہ صوبائی سطح پر سماجی حلقوں میں خوب پذیرائی ملی اور 2015 میں گلگت بلتستان میں ہونے والے عام انتخابات میں جب پاکستان مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت سے الیکشن میں کامیابی حاصل کی تو شیرین اختر کوپارٹی کی جانب سے خواتین کی مخصوص نشست پر ضلع گانچھے سے گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کا ممبر منتخب کیا۔ شیرین اختر گانچھے کے تینوں حلقوں میں سماجی مسائل کے حل میں اپنا بھر پور کردار ادا کر رہی ہیں۔ تعلیم، صحت اور خواتین کے مسائل میں خصوصی دلچسپی کی بنا پر وہ عوامی حلقوں میں مقبولیت حاصل کر رہی ہیں۔ اور انکی تعلیم کی بہتری کے لئے غیر معمولی دچسپی کی بنا پر حال ہی میں گلگت بلتستان کے پارلیمینٹری سیکریٹری کی ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔

18620392_104037466851569_8383838204267902280_n

شیرین اختر کے بقول خواتین ممبر کی مخصوص نشست پر اسمبلی ممبر ہونے کی وجہ سے انہیں دیگر ممبران اسمبلی کے مقابلے میں بہت تھوڑے فنڈز میسر ہوتے ہیں۔  تاہم انکا کہنا ہے کہ وہ کوشش کرتی ہیں کہ صرف فنڈز کی کمی کی شکایات کے بجائے وہ عوامی حلقوں میں اپنی موجودگی کو یقینی بنائے، کیونکہ وہ سمجھتی ہیں معاشرہ میں بہت سے مسائل ایسے ہیں جن کے حل کے لئے پیسوں سے زیادہ خلوص کی ضرورت ہے۔ انکا کہنا ہے کہ وہ کوشش کرتی ہیں کہ عوام میں گھل مل کر رہیں اور انکے مسائل کو سرکاری اداروں تک بہنچا کر انکا سد باب کرسکوں

18320735_1677590695875255_1047357390733742092_o۔

شیرین اختر کا مزید کہنا تھا کہ وہ اپنے بجٹ کا بیشتر حصہ تعلیم، صحت اور خواتین کی معاشرتی مسائل پر خرچ کرتی ہیں، کیونکی تعلیم اور صحت کسی بھی معاشرہ کی بنیادی مسائل ہوتے ہیں جنکے حل سے مزید ترقی رہیں ہموار ہوتی ہیں اور معاشرہ میں خواتین کے مسائل کو حل کئے بغیر پائیدار ترقی ممکن نہیں ہے۔

انکا مزید کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے عوام با ہمت اور محنت کش ہیں تا ہم وسائل اور بنیادی اداروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے مسائل کا سامنا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ انکی حکومت گلگت بلتستان میں پائیدار ترقی کی راہیں ہموار کر رہی ہیں اور انکی پارٹی قیادت دور رس پالیسیز مرتب کر رہی ہیں تا کہ عوامی مسائل

18278145_1677590445875280_8855231992485754309_o

 کی تہ تک پہنچ کر انکا حقیقی حل نکالا جا سکے۔